ابنا: ایک جانباز فائر فائٹر کی دماغی موت (برین ڈیتھ) کی دردناک ترین خبر اس کے ساتھیوں کے حوصلے پست کر سکتی تھی لیکن پینتیس سالہ کمانڈر نے اِس مرحلہ کے لئے بھی کچھ سوچ رکھا تھا۔چنانچہ اس نے یہ منزل سر کرنے کے لئے وہ راستہ چنا جس پر کچھ عرصہ قبل ’’عسل بدیعی‘‘ نے چل کر (عصر حاضر میں) اپنی نوعیت کی ایک بہترین مثال قائم کی تھی۔
جب ہمیں پتہ چلا کہ امید ایک بچی کی جان بچانے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تو ہماری آنکھیں نم اور چہرہ کھل اٹھا۔ اس کے بعد یہ خبر ملی کہ جانباز فائر فائٹر نے شہادت کو گلے لگا کر بہت سوں کو امید اور حوصلہ کا تحفہ دیا ہے۔ لہٰذا ہم خوش بھی ہیں اور ہماری جانب سے اُن کے پسماندگان کی خدمت میں تعزیت بھی عرض ہے۔
جانباز فائر فائٹر کی ترکیب سنی سنائی محسوس ہوتی ہے تاہم ان دنوں اس کے معنی کچھ بدل گئے ہیں۔ اس لئے کہ فائر فائٹر اور جانبازی ایک دوسرے سے گھلے ملے الفاظ ہیں۔لیکن اب ’’امید عباسی‘‘ نے ایسا کارنامہ کر دکھایا ہے جس کی اتنے بڑے پیمانہ پر تعریف کی جا رہی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
جب تہران فائر بریگیڈ اسٹیشن نمبر ۶۸ کےنوجوان کمانڈر نے آگ میں گھری بلند و بالا عمارت کی دسویں منزل پر قدم رکھا تو نو سال کی ریحانہ کو شعلوں کی لپیٹ میں پایا۔ کمانڈر نے فوراً اپنا اکسیجن ماسک اتارا اور بچی کو پہنا دیا۔ اس کے بعد بچی کو اپنے ساتھی کو دے کر اسے محفوظ جگہ پہونچانے کے لئے کہا۔ اتنی دیر میں آگ پھیل گئی، دھواں بڑھتا رہا اور آکسیجن کم ہوتی چلی گئی ۔آخر کار کمانڈر لڑکھڑا کر گر گیا۔
کچھ گھنٹے بعد ہسپتال سے ایک بری خبر موصول ہوئی۔ ایک جانباز فائر فائٹر کی دماغی موت (برین ڈیتھ) کی دردناک ترین خبر اس کے ساتھیوں کے حوصلے پست کر سکتی تھی لیکن پینتیس سالہ کمانڈر نے اِس مرحلہ کے لئے بھی کچھ سوچ رکھا تھا۔چنانچہ اس نے یہ منزل سر کرنے کے لئے وہ راستہ چنا جس پر کچھ عرصہ قبل ’’عسل بدیعی‘‘ نے چل کر (عصر حاضر میں) اپنی نوعیت کی ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔
باقی داستان وہی کارنامہ ہے جوکچھ برس قبل ’’عسل بدیعی‘‘ نے سرانجام دیا تھا۔ ان کے اقدام پر عوام میں اعضاء کے عطیہ کا شوق روزبروز بڑھنا شروع ہو گیا۔ اور اب یہ سلسلہ اس خوشگوار موڑ پر پہونچ چکا ہے کہ گویا درو دیوار پر چسپاں کئے جانے والے اعضاء کی خریدو فروخت کے کاغذی اشتہارات قصۂ پارینہ بننے والے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق عوام میں اعضاء کے عطیہ کا تصور بدل چکا ہے جس کی توثیق اعضاء کی پیوندکاری کے ادارہ کے اعدادوشمار سے بھی ہوجاتی ہے۔ اب روزانہ ’بعد از مرگ عطیۂ اعضاء‘ کے کارڈ کے حصول کے لئے تین سے پانچ ہزار درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔ واضح ہو کہ یہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ ہے۔
درخواستیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ادارۂ عطیۂ اعضاء کو یہ نوٹس جاری کرنا پڑا ہے کہ متعلقہ کارڈ کے اجراء میں ایک سے تین ماہ تک کاوقت لگ سکتا ہے۔
شہید بہشتی جامعۂ طبی علوم (شہید بہشتی میڈیکل یونیورسٹی) کے پیوندکاری کے لئے مطلوب اعضاء کی فراہمی کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر کتایون نجفی زادہ اس بارے میں بتاتے ہیں: ’’عسل بدیعی کی جانب سے اپنے اعضاء عطیہ کئے جانے سے پہلے ہمارے پاس عطیۂ اعضاء کی روزانہ سات سو سے ایک ہزار درخواستیں آتی تھیں لیکن بدیعی کی بالواسطہ مہربانی کے نتیجہ میں اُن کی افسوسناک دماغی موت اور عطیۂ اعضاءکی خبر کے محض تین روز بعد روزانہ پندرہ ہزار درخواستیں آنے لگیں یعنی اوسطاً ہمارے روزانہ کے اعدادوشمار پانچ گنا بڑھ گئے‘‘۔
شہید بہشتی یونیورسٹی کے مذکورہ شعبہ کے کلچرل اسسٹنٹ ڈاکٹر قبادی کہتے ہیں: ’’اب روزانہ تین سے پانچ ہزار افراد عطیہ اعضاء کے کارڈ کے لئے درخواستیں دے رہے ہیں اور یہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلہ میں چار گنا زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف اس سلسلہ میں لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری جانب عسل بدیعی اور امید عباسی جیسے افراد کے کارناموں سے ہمیشہ ہی لوگوں کو تحریک ملی ہے‘‘۔
نجفی زادہ کے بقول سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایران میں سالانہ تین سے چھ ہزار افراد دماغی موت کاشکار ہوتے آئےہیں جبکہ غیرسرکاری ذرائع یہ تعداد بارہ ہزار تک بتاتے ہیں۔ ان میں سے سال میں تقریباً چار سو افراد اپنے اعضاء عطیہ کرتے رہے ہیں جبکہ دنیا میں عطیۂ اعضاء کا اوسط دماغی اموات کا پچاس فیصد ہے۔
دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ دنیا میں دماغی اموات کا شکار ہونے والے پچاس فیصد افراد اپنے اعضاء عطیہ کرد یتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں یہ تعداد اتنی کم رہی ہے کہ اگر دماغی اموات کے چھ سے بارہ ہزار پر مبنی غیرسرکاری اعدادشمار کوپیش نظر نہ رکھ کر محض سرکاری اعدادوشمار تسلیم کئے جائیں جن کے مطابق ملک میں سالانہ تین ہزار دماغی اموات واقع ہوتی ہیں تب بھی اعضاء عطیہ کرنے والے افراد کا اوسط محض تیرہ فیصد رہا ہے۔
دوسری جانب جہاں ایسے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہیں جدید اعضاء کی پیوندکاری درکار ہے اور مہنگی مشینوں اور دواؤں کے سہارے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں وہیں معاشی پابندیوں اور بعض انتظامی غلطیوں کے باعث کمرتوڑ مہنگائی نے صورتحال مزید ابتر کر دی ہے۔ اسی کے ساتھ اگر ٹریفک حادثات وغیرہ کے مجروحین کو پیش نظر رکھا جائے تو دوراندیشی اور جذبۂ ایثار کا تقاضا ہے کہ عوام زیادہ سے زیادہ اعطائے اعضاء کے درخواست دہندگان کی فہرست میں شامل ہوجائیں مگر اس سے پہلے ایسا نظر نہیں آیا۔ اس کی وجہ شاید اس کارخیر کی خوبیاں واضح نہ ہونا نیز اس حوالہ سے لازمی تعلیم کا فقدان رہاہے۔
بہرحال معروف اداکارہ عسل بدیعی اور امید بخش فائر فائٹر امید عباسی نے اپنے کارناموں سے وہ کر دکھایا ہے جو اب تک متعلقہ ذمہ دار افراد نہیں کر پائے۔ یقیناً معاشرہ کو ان کی قربانی کے بہترین نتائج حاصل ہوں گے۔
انہیں حقائق کے مد نظر ہمیں چاہئے کہ بدیعی اور عباسی جیسے افراد کے ساتھ پیش آئے حادثات کے دکھ درد سے ہٹ کر ان کے کارنامے اورکامیابی کی خوشی منائیں اور ان کے کارنامہ کو بڑے پیمانہ پر عام کر کے سماج کی ہر فرد کو یہ یقین دلا دیں کہ اعضاء کا عطیہ ایک انتہائی نیک اور ضروری عمل ہے۔
.....
/169